مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری مائیکل چیرٹوف نے کہا ہے کہ القاعدہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ منظم ہو رہی ہے۔اس نے کہا کہ انکو اس بات پر شدید خدشات ہیں کہ القاعدہ اور اس جیسے گروپ افغانستان سے متصل پاکستانی سرحدی قبائلی علاقوں کو مرکز بنا کر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان ابھی القاعدہ کے لیے ویسی محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکا ہے جیسا کہ کبھی افغانستان تھا لیکن اس کے باوجود نہ امریکہ اس معاملے میں بے فکری کا مظاہرہ کر سکتا ہے اور نہ پاکستان کو کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران دیکھا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں کچھ منظم ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ بات باعثِ تشویش ہے۔ مائیکل چیرٹوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ القاعدہ اور اس سے ملتے جلتے گروپوں کا پاکستان میں منظم ہونا صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ یورپ میں اس کے اتحادیوں میں بھی خدشات پیدا کر رہا ہے اور اس معاملے پر پاکستانی حکام کو بھی یقیناً تشویش ہو گی۔ واضح رہے کہ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے بدھ کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں محکمۂ دفاع کی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور فوجی انہیں مکمل اختیار حاصل ہے۔
آپ کا تبصرہ